صاف ظاہر ہے نگا ہوں سے کہ ہم مرتے ہیں



صاف ظاہر ہے نگا ہوں سے کہ ہم مرتے ہیں
منھ سے کہتے ہوۓ یہ با ت مگر ڈرتے ہیں

ایک تصو یرِ محبّت ہے جو ا نی گو یا
جس میں رنگوں کےعوض خونِ جگربھرتےہیں



آسماں سے کبھی د یکھی نہ گئ ا پنی خو شی
اب یہ حالت ہے کہ ہم ہنستے ہوۓ ڈ رتے ہیں

شعر کہتے ہو بہت خوب تم اختر ، لیکن
اچھے شاعر یہ سُنا ہے کہ جوا ں مر تے ہیں

Tags: ,
Latest Comments
  1. SARWAR SHAH June 4, 2016
  2. SARWAR SHAH June 4, 2016

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *